| Novel Name | Tum Hi Tum Ho |
| Author Name | Classic Urdu TV |
| File Size | 13.20 MB |
| File Format | PDF Format |
| Download Option | Available |
خانوں کی بیٹی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے یہ خبر دونوں گاؤں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی تھی اور اس آگ میں تیل جھڑکنے کا کام چوہدریوں کے خاندان کے ایک فرد نے کیا تھا۔ جہاں چوہدریوں کے گاؤں میں لوگ مصالحے لگا لگا کر اس خبر کو نشر کر رہے تھے وہیں خانوں کے گاؤں میں جیسے ایک غدر سا مچ گیا تھا۔ گاؤں کے مالک بختیار خان جنھیں سارا گاؤں بڑے خان جی کہا کرتا تھا بیٹی کی طرف سے یہ دھوکہ کھا کر آپے سے باہر ہو گئے تھے۔ خان حویلی اس وقت اپنی بیٹی کے خون کی پیاسی ہو گئی تھی۔ہر طرف اس لڑکی کی تلاش جاری تھی
وہ کسی طور پر اس واقعے کو دبانا چاہتے تھے۔ کیونکہ سالوں پہلے چوہدریوں کی جس کمزوری کو خانوں نے اپنے فایدے کے لیے استعمال کیا تھا اب وہی واقعہ ان کے ساتھ ہوا تھا جب ان کی حویلی کی بیٹی ان کی عزت کو روند کر کسی کے ساتھ چلی گئی تھی۔ابھی یہ قصہ دبا تک نہ تھا جب اگلے ہی دن کسی نے چوہدری درام کی ساکھ کو برباد کرنے کے لیے اپنی ایک چال چلی تھی۔ دشمن کے لیے یہ موقع بہترین موقع تھا جہاں ایک جانب خانوں کی بیٹی ان کی حویلی سے بھاگ گئی تھی وہیں اسی لڑکی کو چوہدری درام کے ساتھ منسلک کیا جانے لگا اور ان دونوں کی تصویریں گاؤں میں گردش کرنے لگیں۔ وہ تصویریں اس وقت لی گئی تھیں جب باغ میں گل پیڑ سے اترتے درام کے اوپر جا گری تھی اور تصویر کھینچنے والے نے اس زاویے سے تصویر کھینچی تھی کہ دیکھنے والے پر اس کا غلط تاثر پڑنا ایک معمولی بات تھی۔ درام تو وہ تصویر دیکھ کر ہی حیران تھا کہ بھلا اس ایک حادثاتی ملاقات کا تعلق گل کے بھاگ جانے سے نتھی کر کے اس سارے قصے کو جو رنگ دیا جانے لگا وہ درام کے لیے ناقابل یقین تھا۔ دونوں گاؤں میں جیسے طوفان سا آ گیا تھا۔ درام تو اپنی صفائی میں بولتا ہی رہا کہ اس کا بڑے خان کی بیٹی سے کوئی تعلق نہیں مگر خان حویلی کے لوگ اسے دشمنوں کی شازش اور ماضی میں ہوئے واقعے کا بدلے کا نام ہی دے رہے تھے۔ مگر شازش کرنے والا یہ نہیں جانتا تھا کہ خان حویلی کی بیٹی اور جس لڑکی کی تصویریں درام کے ساتھ پھیلائی گیئں تھیں وہ دو الگ الگ لڑکیاں تھیں۔ جیسے سازش کرنے والا اور درام خود خانوں کی بیٹی سمجھ بیٹھے تھے وہ در حقیقت خانوں کے وفادار اکرام کی بیٹی اور خان حویلی کی لاڈلی بیٹی فریحہ کی سہیلی تھی۔
وہ تصاویر جب پھیلی تو ہر طرف درام اور بڑے خان کی بیٹی کے معاشقے کا شور سا مچ گیا جسے درام تو جھٹلاتا رہا مگر چوہدریوں کے گاؤں میں کوئی بھی بڑے خان کی اصل بیٹی سے واقف نہ تھا اور سبھی لوگ بڑھ چڑھ کر بڑے خان کی بیٹی کی کردار کشی کرنے لگے۔ گل نور تو خود یہ تصویریں دیکھ کر حیران تھی اور بڑے چوہدری کے سامنے سچ کا حلاضہ کرنے پہنچ گئی تھی مگر بڑے چوہدری کو گلنور سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ ان کے لیے تو اپنی عزت اور نیک نامی ہی معنی رکھتی تھی جو ان کی بیٹی کی وجہ سے خطرے میں آ گئی تھی۔ اسی وقت انھیں ان کی بڑی بہن جیسے وہ ماں کی سی عزت دیتے تھے نے طلب کیا تھا۔
“جی آپا بیگم !” غصے میں کھولتے بڑے خان اس وقت اپنی بہن کے سامنے بے بس سے لگ رہے تھے۔
“یہ وقت غصے سے ہوش و حواس کھونے کا نہیں ہے خان بلکہ اپنی عزت بچانے کا ہے۔”
” کیسے بچاؤں عزت جسے وہ لڑکی روند کر چلی گئی ہے۔” وہ غصے سے بولے۔
“یہ وقت جذباتی ہونے کا نہیں ہے ۔پورے علاقے بلکہ اردگرد کے گاؤں میں بھی ہماری عزت اچھالی جا رہی ہے ہے خان۔”
“تو کیا کروں آپا بیگم ! ایک جانب فریحہ ہماری عزت اچھالی کر حویلی سے بھاگ گئی تو دوسری جانب اکرام کی بیٹی کی چوہدری درام کے ساتھ تصویریں ہر طرف پھیل گئی ہیں اور لوگ اسے ہماری بیٹی سمجھ بیٹھے ہیں۔ عجیب الجھن میں پھنس گیا ہوں۔ سب کو لگتا ہے کہ میری بیٹی میرے دشمن سے جا ملی ہے اب میں تو اس سچ کا خلاصہ تک نہیں کر سکتا۔ دونوں ہی لڑکیاں ہمارے ہی خاندان اور گاؤں کی ہیں۔چوہدریوں کے سامنے مجھے کتنی ذلت اٹھانی پڑے گی۔”
” خان اگر عقل سے کام لو تو اس مشکل سے نکل سکتے ہو ۔۔۔ یہ تصویریں بھی یقیناً چوہدریوں نے ہی پھیلائی ہوں گی۔۔۔۔۔لوگوں کو لگتا ہے کہ اکرام کی بیٹی ہی خان حویلی کی بیٹی ہے تو انھیں ایسا ہی لگنے دو اور پنچائیت میں جا کر کہہ دو کہ گل نور ہی تمھاری لے پالک بیٹی ہے جس کے بھاگ جانے کی خبر پھیل گئی تھی اور پھر اس لڑکی کو پیش کرو اور کہو کہ تم نے اسے ڈھونڈ نکالا ہے اور جس کی وجہ سے وہ بدنام ہوئی ہے اسے انھی کے ساتھ رخصت کر دو۔ دیکھو اگر فریحہ کے چلے جانے کے سچ کا خلاصہ ہوا چوہدری ذوالفقار کے زخموں پر تمھاری یہ ہار ٹھنڈی پھوار بن کر برسے گی۔ گل نور کو ان کے ساتھ بھیج دو اور اس کے باپ سے کہو کہ یہی وفاداری نبھانے کا وقت ہے۔ ایسے تم چوہدریوں پر یہ ثابت کر سکو گے کہ تم نے خود اپنی لڑکی انھیں سونپی ہے نہ کہ ان کی بیٹی کی طرح تمھاری لڑکی نے پہنچائیت میں خود ان سے قطع تعلق کیا ہے۔ آپا بیگم نے انھیں ایک راہ سجائی تھی اور اس راہ پر چلتے ہی بڑے خان نے چوہدریوں کو ہی اپنی بدنامی کی وجہ سمجھ کر انھیں ایک اور ہار دینے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے لیے گل نور کو مہرہ بنا کر پیش کیا گیا تھا۔
چوہدریوں کے سامنے اپنی سبکی کے ڈر سے انھوں نے گل نور کو اپنی بیٹی کے طور پر پیش کیا تھا جسے انھوں نے بچپن میں ہی گود لیا تھا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کی بیٹی لوٹ آئی ہے اور چوہدری درام نے اپنے خاندان کا بدلہ۔لینے کے لیے ان کی بیٹی کو بدنام کیا ہے۔ درام جسے نہ تو چوہدریوں اور خانوں کی دشمنی سے مطلب تھا اور نہ اس دشمنی کی وجہ معلوم تھی اس کے لیے یہ سب ناقابل یقین تھا۔ وہ انکار کرتا رہا جیسے کوئی خاطر میں نہ لایا تھا۔ چوہدری ذوالفقار جو گزشتہ دو دنوں سے کراچی گئے تھے یہ ساری بات سن کر فوراً لوٹے تھے۔ انھیں درام پر تو بھروسہ تھا مگر فلوقت وقت درام کے خلاف تھا تبھی تو دشمن کی چال کام کر گئی اور درام کی جلن میں کسی اپنے نے ہی اسے بدنام کرنے کی کوشش میں گل نور کے ساتھ منسلک کر دیا۔ آج سالوں بعد چوہدری ذوالفقار اور بڑے خان آمنے سامنے آئے تھے۔ دونوں کی آنکھوں میں ایک دوسرے کے لیے تیش اور نفرت تھی۔ پنچائیت میں بہت بحث و تکرار کے بعد اور بڑے خان کے پر زور اختجاج پر گل نور جیسے انھوں نے سب کے سامنے اپنی بیٹی ظاہر کیا تھا کو درام خان کے ہمراہ چوہدریوں کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ بڑے خان نے اس سے ناراضگی اور نفرت کا اظہار کرتے اس سے ہر قسم کے تعلق کو توڑنے کا حکم نامہ جاری کرتے اس کا اپنے گاؤں میں داخلہ منع کر دیا تھا اور گل نور تو اس اچانک آئی مصیبت سے اپنے ہوش و حواس کھو چکی تھی کیونکہ اس کے باپ نے اس پر اپنی وفاداری کو فوقیت دیتے اسے ساری زندگی کے لیے خود سے دور اور دربدر کر دیا تھا۔ چوہدری ذوالفقار جو فلحال کچھ کر نہیں سکتے تھے بیٹے کے پر زور اختجاج کے باوجود گل نور کو لیے اپنی حویلی چلے آئے تھے جس کی زبان پر تو جیسے تالہ پڑھ گیا تھا۔
زائشہ کے سسرال میں بھی یہ بات پھیل گئی تھی۔ ان کی جانب سے طرح طرح کے سوال اٹھائے جا رہے تھے اس لیے اپنی بیٹی کی شادی اور اپنی عزت کو بچانے کے لیے انھوں نے فوراً ہی گل نور کا نکاح چوہدری درام سے کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔ گاؤں حویلی اور بہن کے سسرال میں پیدا ہوتے حالات کے پیش نظر اور ماں کی منت سماجت کرنے پر درام نے بھی نکاح کر لینے کا فیصلہ کر لیا تھا کیونکہ ابھی یہی حل تھا۔ گل نور تو بے یقینی سے چوہدیوں کی حویلی کے کمرے میں بیٹھی اپنی قسمت پر اشک بہا رہی تھی۔ کچھ ہی دیر قبل اس کا نکاح چوہدری درام سے ہوا تھا اور ابھی باہر اس کی حویلی میں اس کی منگیتر اور اس کے ماں باپ نے خوب واویلا مچا رکھا تھا۔
سبھی اس صورت حال میں الجھ گئے تھے۔ کون کسے قصور وار کہتا اور کون کس سے الجھتا۔ درام تو یہ ہی نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ کہ اس وقت اس کی تصویر کھینچنے والا کون ہو سکتا تھا کیونکہ باغ میں اس وقت صرف اور صرف ان کے اپنے ہی لوگ تھے اب اسے اپنوں میں چھپے اس دشمن کو تلاشنا تھا جس نے اس کی عزت کو یوں سر عام اچھالا تھا اور اسے بدنام کر کے یوں ایک انجان لڑکی سے نکاح کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔
“ماں بابا وہ لڑکی میرے کمرے میں کیا کر رہی ہے ؟” ملازمین سے گل کے اپنے کمرے میں ہونے کی خبر سن کر ہی وہ بنا کمرے میں گئے ہی ماں باپ کے پاس آیا تھا۔
“تو کہاں بھیجیں اسے۔”
“کہیں بھی پر میرے کمرے میں کیوں ہے وہ ؟” جانتے ہیں آپ لوگ یہ نکاح اور اس کی اہمیت تو اسے وہاں کیوں چھوڑا۔
“بیٹا زائشہ کے سسرال والے۔۔۔۔۔ “
“زائشہ کے سسرال والوں کی وجہ سے آج آپ نے مجھے ایک انجان لڑکی سے باندھ دیا ہے پر میں بتا رہا ہوں بابا میں یوں کسی دوسرے کے کئے گئے فیصلوں پر اپنی۔زندگی قربان نہیں کر سکتا۔ جس دن مجھے یہ سازش کرنے والے کا پتہ چلا نہ اس دن وہ اور یہ لڑکی دونوں میرے ہاتھوں مارے جائیں گے۔” وہ غصے سے بولا تھا اور اس کی آواز درام کے کمرے میں بند گل نور تک واضح پہنچی تھی۔
“بیٹا ہم تم پر کوئی زور زبردستی نہیں کر رہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ نکاح کن حالات میں ہوا ہے پر بیٹا اس لڑکی کو ہم کہاں بھیجیں۔ حویلی مہمانوں سے بھری پڑی ہے۔” اس کی ماں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے مگر میں اس کے ساتھ ایک کمرے میں نہیں رہوں گا۔ میں حسن کے کمرے میں جا رہا ہوں۔”یہ کہہ کر وہ اپنے کزن کے کمرے میں چلا آیا۔
“گل جو شام سے بھوکی پیاسی یہاں بند تھی گیارہ بجے ہی تو نسیم بیگم کو حیال آیا تھا کہ ان کے بیٹے کے کمرے میں وہ لڑکی دوپہر سے بھوکی پیاسی بند ہے۔ تو وہ ملازمہ کے ہمراہ اس کے لیے کھانا لیے مردانے میں آئیں تھیں اور اندر آتے ہی انھوں نے چونک کر گل کو دیکھا تھا جو ہنوز بت بنی ویسے ہی بیٹھی تھی جیسے وہ چھوڑ کر گئیں تھیں۔