| Novel Name | Dasht E Mohabbat |
| Author Name | Shumaila Hasan |
| File Size | 13.20 MB |
| File Format | PDF Format |
| Pages | 855 |
| Download Option | Available |
دلہن بنی زرمینے آفریدی اس وقت گردن جھکائے تیز دھڑکنوں کے ساتھ شہریار علی خان کی باتیں سن رہی تھی۔
“ماننا پڑے گا ادے جان کی پسند کو۔۔۔ صحیح کہتی تھیں وہ کہ تم میرے ساتھ بہت جچو گی۔۔۔۔” اس کی نظروں میں زرمینے کے لئے ستائش تھی۔۔ جس کی من موہنی صورت شہریار کی آواز پر حیا کی لالی سے دہک اٹھی تھی۔۔۔ اس نے دھیمے سے لرزتی پلکیں اٹھائیں تو شہریار کی آنکھوں میں ٹھہرے جذبات دیکھ کر اگلے ہی پل نظریں جھکا گئی۔۔ فی الحال وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ اس موقعے پر وہ اپنی تعریف کر رہا تھا یا اس کی۔۔۔۔۔
“زرمینے میں ایک بااصول اور مصروف انسان ہوں۔ مجھے دو ٹوک بات کرنے کی عادت ہے۔۔۔” وہ جو شاید مزید اپنے حسن کا خراج وصولنے کے لئے تیار بیٹھی تھی شہریار کی آواز پر ساکت ہوئی تھی۔۔۔ جس کا لہجہ کسی اسکول ماسٹر کی مانند سنجیدگی لئے ہوئے تھا۔۔۔
“اس گھر کا ہر فرد میرے مزاج کو سمجھتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آج سے تم بھی میری پسند ناپسند جان لو۔۔۔” سائیڈ ڈرار سے ایک چوکور مخملی ڈبہ نکال کر کھولتے اس نے ایک نظر زرمینے پر ڈالی جس کا دل اس کی تمہید پر کچھ پریشان ہوا تھا۔۔۔
“مجھے تیز لہجے اور اونچی آواز میں بات کرنے والی لڑکیاں سخت ناپسند ہیں۔۔۔۔۔ تو اس بات کا خاص خیال کرنا۔۔۔” ڈبے میں سے پہلی سونے کی جھلملاتی چوڑی اس کی کلائی میں ڈالتے وہ سابقہ لہجے میں بول رہا تھا۔۔۔ جبکہ اس کے ہاتھ پکڑنے پر زرمینے کا دل اچھل کر حلق میں آیا تھا۔۔۔۔ سرخ گال حیا کی لالی سے مزید تپ اٹھے تھے۔۔۔۔ شہریار علی خان کو اس کا یہ شرمیلا روپ پسند آیا تھا۔۔۔ مونچھوں تلے ایک ہلکی سی مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا جو اگلے ہی پل معدوم بھی ہو گئی تھی۔۔
“میری بات پر آگے سے تم بحث نہیں کرو گی۔۔۔۔ مجھے بات بار بار دہرانے کی عادت نہیں ہے۔۔۔” اس کے احساسات کو نظر انداز کرتے دوسری چوڑی کے ساتھ دوسری ہدایت بھی زرمینے کے کانوں میں انڈیلی گئی۔۔۔۔ گہری نظریں مسلسل اس کے چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں لئے ہوئے تھیں۔۔۔۔ شاید وہ اس کے چہرے سے دل کا حال جاننا چاہ رہا تھا۔۔۔
“ہمارے اس کمرے کی کوئی بات اس چاردیواری سے باہر نہیں جائے گی۔۔۔” اب کی حنائی ہاتھوں میں تیسری چوڑی بھی جگمگانے لگی تھی۔۔۔۔ اس کی مضبوط گرفت میں زرمینے کی ہتھیلیاں اب پسیجنا شروع ہو چکی تھیں مگر وہ مسلسل گردن جھکائے اس کے احکام سنتی رہی۔۔۔۔
“مجھے جھوٹ سے سخت نفرت ہے۔۔۔۔ اس لئے مجھ سے کبھی اس کی کوشش بھی مت کرنا ورنہ۔۔”
“سس!” شاید مسلسل چوڑیاں پہننے سے اس کے ہاتھ میں رگڑ لگ گئی تھی یا شہریار علی خان کی باتوں کا اثر تھا کہ اس کے ہونٹوں سے ایک سسکی نکلی۔۔ اس کا مجازی خدا شادی کی پہلی ہی رات اس کو نہ جانے کون سے اسباق ازبر کروانا چاہ رہا تھا۔۔۔ دل میں کچھ چھناکے سے ٹوٹا تھا۔۔۔
“میرے گھر کا ماحول بہت اچھا ہے میں نہیں چاہتا کہ ساس بہو کے روایتی لڑائی جھگڑوں کی روداد تم مجھ تک پہنچاؤ۔۔۔ اس لئے اس سے اجتناب کرنا۔۔۔۔” اس کی رگڑ کو اپنے انگوٹھے سے نرمی سے سہلاتے ہوئے پانچویں چوڑی اس کے ہاتھ میں ڈالی۔۔۔۔ مطلب وہ درد اور مرہم ساتھ دینے والوں میں سے تھا۔۔۔۔ زرمینے کو یہ شخص بہت عجیب لگا تھا۔۔۔ شاید وہ إحساس برتری کا شکار تھا جس کے لئے اس کی انا اور أصول ہر رشتے سے اوپر تھے۔۔
“میں اپنی ذاتی زندگی میں مداخلت پسند نہیں کرتا ہوں اور نہ ہی یہ چاہوں گا کہ آج کے بعد تم مجھ سے یہ ایکسپیکٹ کرو کہ میں تمہارے لئے خود کو یا اپنے اصولوں کو بدلوں۔۔” آخری چوڑی کے ساتھ ہی اس کی آخری شرط بھی ختم ہوئی۔۔۔۔ زرمینے کی آنکھ پانیوں سے بھر گئی تھی مگر وہ ان کو جھپک جھپک کر اندر اتارنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔ آج کی رات کو لے کر اس کے بہت ارمان تھے۔۔۔ لیکن اپنی ذات کے غرور میں ڈوبے اس کے مجازی خدا نے پہلی ہی رات اس معصوم کے دل کا پہلا ارمان توڑ دیا تھا۔۔۔۔ وہ سوچ رہی تھی ان ہدایات کے لئے تو ساری عمر پڑی تھی۔۔۔۔۔ کیا یہ ضروری تھا کہ وہ اصولوں اور ہدایتوں کی پوٹلی اسے آج ہی پکڑا دیتا۔۔۔۔ جھلملائی آنکھوں سے اس نے اپنے ہاتھ میں موجود ان حسین چوڑیوں کو دیکھا جو اب ساری زندگی اسے ان ہدایات کو بھولنے نہیں دینے والی تھیں۔۔۔۔۔
“اب تم چینج کرنے جا سکتی ہو۔۔۔” اس کے ہاتھوں کو اپنے لبوں سے نرمی چھو کر چھوڑتا وہ خود بیڈ پر دراز ہو گیا۔۔۔ زرمینے بمشکل اپنا غرارہ اور دل سنبھالے بیڈ سے اتری تھی۔۔۔۔۔ یہ تو طے تھا کہ شہریار علی خان ایک پیچیدہ شخصیت کا مالک تھا اور اس کے ساتھ زرمینے کو کیسے گزارہ کرنا تھا اس بات کو سوچ کر وہ ابھی سے ہی پریشان ہونا شروع ہو چکی تھی۔