رخصتی سے پہلے اسکے شوہر کا قتل ہوگیا اب وہ سردار کے یہاں ونی ہوکر جا رہی تھی۔۔ جرگہ کا منظر بدل چکا تھا۔ زرتاشہ سفید جوڑے زیب تن کیے سوگوار سی کرسی پر نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔ کبیر اپنی سرمئی آنکھیں اس پر گاڑھیں ، اسے دیکھ رہا تھا۔
اسکی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں پر وہ لب بھینچ گیا۔خود پر نگاہوں کی تپش محسوس کرتی بے اختیار زرتاشہ نے نگاہیں اٹھائیں۔ نظروں سے نظریں ملی۔ کبیر کا دل دھڑکنا بھول گیا۔ زرتاشہ نے نظریں پھر سے جھکا لیں۔ سیاہ کا جل سے سجی آنکھیں کبیر کا چین و قرار لوٹ گئی۔ صرف لمحہ بھر کی بات تھی۔۔ دل پھر سے دغا بازی پر اتر آیا۔
“اف ! کتنی بے باک ظلم آنکھیں تھیں اس کے محبوب کی “۔وہ دل میں سوچ کر مسکرایا۔”زر تا شه بنت بختیار خان آپ کا نکاح کبیر ولد در بیز خانزادہ سے طے پایا ہے۔ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”۔ مولوی صاحب کے الفاظ زرتاشہ کی سماعت میں گونجے۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ وہ بے بسی کی انتہا پر تھی۔ انکار کا آپشن کسی نے زرتاشہ خان کو دیا ہی نہیں تھا۔” قبول ہے “۔ وہ کڑے ضبط سے آنسو پیتی بولی۔” کیا آپ کو قبول ہے “۔ مولوی نے اپنے الفاظ پھر سے دہرائے۔”ق۔ قبول ہے ” ۔ لب ذرا سے کپکپائے۔
اس نے ا۔ نے اپنے تمام حقوق مقابل بیٹھے شخص کے نام کر دیئے۔خوبصورت آنکھوں سے ننھا سا قطرہ رخسار پر بہہ گیا۔ کبیر کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں دبوچا تھا۔ مولوی صاحب نے اس کی طرف رخ کیا۔ “کبیر ولد دبیز خانزادہ کیا آپ کو زرتاشہ بنت بختیار خان اپنے نکاح میں قبول ہیں ؟”۔ کبیر نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنی نظریں زرتاشہ کے چہرے سے نہیں ہٹائیں۔
” قبول ہے “۔ (دل و جان سے قبول ہے میری دشمن جاں ) وہ سکون سے آنکھیں موند کر دھیمے سے بولا۔ ” کیا آپ کو قبول ہے “۔ مولوی صاحب نے پھر سے پوچھا۔ ” جی قبول ہے ” ( تم آج سے ، ابھی سے اور قیامت تک صرف کبیر خان کی ہوئی۔۔۔ )” قبول ہے “۔ تیسری بار اقرار ہوا۔( تم میرانصیب تھیں زرتاشہ تمہیں ہر حال میں میرے ہی نکاح میں آنا تھا۔۔۔)۔ نکاح نامے پر دستخط کرتے ہوئے وہ سرشار تھا۔ روم روم میں جیسے سکون سا اترا۔ بلآخر کبیر خانزادہ نے اپنی محبت پالی تھی۔۔ مگر مشکلات ختم نہیں ہوئی تھیں۔
ابھی امتحان باقی تھے۔ دبیز خانزادہ نے بڑی پریشانی سے کبیر کے تاثرات ملاحظہ کیے۔ کبیر نے بے ساختہ نظریں چرائیں۔ نکاح مکمل ہو گیا۔ ایک سمجھوتہ طے پایا۔ بختیار خان لڑکھڑاتے قدموں سے زرتاشہ کی جانب بڑھے۔ اسکا ماتھا چوما اور سینے سے لگالیا۔ “مجھے معاف کر دینا زر تو اپنے اس مجبور بابا کو معاف کر دینا جس نے دشمنی کی بھینٹ میں اپنی سب سے پیاری اولاد کو چڑھا دیا”۔ زرتاشہ ، جواب تک صدمے میں ساکت تھی، اپنے باپ کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روپڑی۔ کبیر جو تھوڑی دوری پر کھڑا اپنی جیپ کے ساتھ ٹیک لگائے یہ سب دیکھ رہا تھا، اس کے چہرے پر ناگواری کے بادل چھا گئے۔
“بس کیجئے یہ میلو ڈرامہ اپنا “۔۔ وہ تیز قدموں سے چلتا ہوا آیا اور بختیار خان کے حصار سے زرتاشہ کو تقریباً کھینچتے ہوئے الگ کیا۔ بختیار خان بے بی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔” ہمارے پاس فضول رونے دھونے کے لیے وقت نہیں ہے چلو ! “۔ وہ اسے گھسیٹتا ہوا جیپ تک لے گیا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے تقریباً اندر پٹخ دیا۔ زرتاشہ کا سر سیٹ سے ٹکرایا اور اس کے منہ سے ایک دبی ہوئی سسکی نکلی۔ کبیر نے دھاڑ سے دروازہ بند کیا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا۔ جیپ کا رخ حویلی کی جانب تھا۔کچھ دیر تک گاڑی میں زرتاشہ کی دبی دبی سسکیوں کی آواز گونجتی رہی۔ کبیر نے غصے میں اسٹیئرنگ پر گرفت مضبوط کر دی۔ مگر اچانک اس کی نظر زرتاشہ کی اس کلائی پر پڑی۔ کلائی پر سرخ نشان پڑ چکے تھے۔ کبیر کا دل چاہا کہ خود کو شوٹ کردے۔”زرتاشہ ۔۔۔”۔
کبیر نے آہستگی سے پکارا۔ زرتاشہ سانس تک روک گئی۔ گلابی نم آنکھوں سے اس نے کبیر کو دیکھا۔ کبیر نے ہاتھ بڑھا کر اسکی مرمری ودھیا کلائی تھامی اور بے اختیاری میں اس پر لب رکھ دیئے۔ زرتاشہ کا چہرہ سرخ قندھاری ہوا تھا کبیر کے لمس پر۔ اور آہستہ سے انگلیوں کی پوروں سے اسکی کلائی سہلانے لگا۔ زرتاشہ کے وجود میں برقی سی دوڑ گئی۔”درد ہو رہا ہے “۔ کبیر نے نظریں اس کے خوبصورت چہرہ پر جما کر پوچھا۔ زرتاشہ نے بھیگی پلکوں سمیت سر اثبات میں ہلایا۔ “بہت زیادہ سائیں “۔ وہ بھرائی آواز میں بولی۔” ہونا بھی چاہئے ، یہ درد تمہیں یاد دلاتے رہے گے کہ تم ونی ہوں ، تم ایک قاتل کی بہن ہوں، مجھے سے نرمی کی ہر گز توقع مت رکھنا، مجھے تم سے نفرت ہے ( جھوٹ تم سے صرف عشق ہے بے شمار) ” ۔ وہ ایکدم ہی خود پر خول چڑھا کر نفرت سے گویا تھا۔ مگر دل کر لایا تھا۔
سینے میں درد سا اٹھا۔ دل چاہا سب روایات بھاڑ میں جھونک کر اپنی محبت کو سینے سے لگالے۔ زرتاشہ نے پل پل بدلتے شخص کو حیرت سے دیکھا تھا۔” ہمارا کیا قصور ہے سائیں “۔ نم آنکھوں سے اس نے استفسار کیا۔ “تمہارے قصور گنوانے بیٹھوں تو زر تاشہ کبیر خانزادہ۔۔۔ تم میرا حساب نہیں دے پاؤ گی ،ا گر میں حساب کرنے پر آگیا، تو تمہاری پوری زندگی بھی کم پڑ جائے گی”۔وہ سخت گیر لہجہ میں بولا۔ گردن کی رگیں تن گئی۔ زرتاشہ نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اپنا سر سیٹ کے پیچھے ٹکادیا۔ کبیر نے اک اچٹتی سی نظر زرتاشہ پر ڈالی۔ اور ضبط سے مٹھیاں بھینچ لیں۔ یہ قسمت کیا کھیل رچار ہی تھی۔ محبت اتنے سالوں بعد ملی بھی تو وہ ونی کی صورت ! دل چاہا پوری دنیا کو آگ لگادے۔ “ایم سوری سائیں کی جان میں روایات سے باندھا ہوں مگر تم سے بیگانہ نہیں ہوں، بس مجھ سے بد گمان مت ہونا، بڑی مشکل سے دل کو سنبھالا ہے ، اب اگر ٹوٹا تو کبیر خان جان سے جائے گا “۔ وہ اس کے چہرہ کو نگاہوں سے سیراب کرتا دل ہی دل میں گویا تھا۔