Subscribe Now

Edit Template

Subscribe Now

Edit Template

Sun Saaiyan by FM Urdu Novels

Novel NameSun Saaiyan
Author NameFM Urdu Novels
File FormatYT
Download OptionAvailable

“پلیز مجھے مت مارنا میں نے کچھ نہیں کیا۔” عائش افندی جو دنیا کیلئے ایک مشہور بزنس مین تہمور افندی کی یتیم بھتیجی تھی لیکن اُسکی حیثیت ایک ملازمہ سے کم نہ تھی۔ ذرا سی غلطی پر اُسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ اب بھی وہ اپنی چچی کے ظلم سے بچنے کیلئے ایک کمرے میں چھپ گئی تھی جو اُسکے چچا زاد کایان افندی کا تھا جس کی دہشت سے پورا خاندان ڈرتا تھا۔ عائش افندی کا یہ ڈرا سہما روپ کایان افندی کو ساکت کر گیا تھا۔
آفندی ولا کے ڈائننگ ہال میں اس وقت گھر کے سبھی مکین موجود تھے اور ڈنر کو انجوائے کر رہے تھے۔ اس گھر کا لاڈلا اور اکلوتا وارث کایان آفندی آج ان سب کے ساتھ ڈنر ٹیبل پر موجود تھا۔ کھانا خاص کایان کی پسند کا بنوایا گیا تھا۔۔۔ سبھی لوگ پُرمسرت ماحول میں ڈنر نوش فرما رہے تھے۔ “تو برخوردار آگے کے کیا پلانز ہیں؟” تیمور صاحب نے فورک منہ میں لیتے ہوئے بیٹے کی طرف دیکھا۔ “میں اپنا بزنس یہاں بھی اسٹیبلش کرنا چاہتا ہوں اور ساتھ ساتھ اپنی پرسنل لائف پر بھی فوکس کروں گا۔” کایان نے مصروف سے انداز میں کہتے ہوئے ایک نگاہ اپنے ماں باپ کو ضرور دیکھا تھا. “گڈ ٹو لِسن کہ تم اب اپنی پرسنل لائف کے لیے بھی سیریس ہو چکے ہو۔” تیمور صاحب متاثر نظر آئے۔ “تمہاری عمر کے لڑکے دو دو بچوں کے باپ بن چکے ہیں اور تم ہو کے اب تک کنوارے پھر رہے ہو۔” تیمور صاحب کے لطیف سے طنز پر شمسہ بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔۔ جب کہ کایان مسکرا بھی نہ سکا۔ “جی۔۔۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ آنے والے سال میں دو نہ سہی لیکن آپ کو ایک پوتا تو دے ہی دوں۔” وہ مسکراتی نگاہوں سے سپاٹ انداز میں ان دونوں کی طرف متوجہ ہوا۔ “تمہاری موم نے کل تمہارے ویلکم کے لیے پارٹی پلان کی ہے۔ تمہارے ماموں کی فیملی بھی مدعو ہے۔ اس کے علاؤہ ہمارا پورا سرکل انوائٹڈ ہے۔” تیمور صاحب نے اپنی پلیٹ میں رائس ڈالتے ہوئے بتایا۔ “حرا بہت اچھی لڑکی ہے۔۔ پڑھی لکھی ہے، سلجھی ہوئی ہے اور بہت سٹائلش بھی ہے۔۔۔ تمہیں یقیناً وہ بہت پسند آئے گی۔ تم کل مل لینا اور اگر تمہیں پسند آ جاتی ہے تو بات آگے بڑھا دیں گے۔” شمسہ بیگم نے شوہر کی طرف منچورین کا باؤل بڑھاتے ہوئے کندھے اچکا کر کہا۔ جن لوگوں نے آٹھ سال اس کا سکون غارت کر رکھا تھا وہ اب بھی اپنی مرضی چلا کر اس کا چین اڑانے کا ارادہ رکھتے تھے۔۔۔ وہ لڑکی جسے کایان آفندی کی بیوی کی حیثیت نہیں ملی تھی اسے اب سوتن ضرور ملنے والی تھی۔۔۔۔ کایان کو اپنے ماں باپ پر جی بھر کر غصہ آیا۔۔۔ اسے لگتا تھا کہ اس کے والدین کو بھتیجی پر بہت پیار آ گیا ہے اسی لیے زبردستی اسے اس پر مسلط کر دیا گیا۔ “آپ بات آگے بڑھائیں۔” کایان نے کھانا کھاتے ہوئے بڑے ہی مزے سے کہا۔ “ایک بار حرا سے مل تو لو۔” تیمور صاحب نے بیٹے کی جلد بازی پر ہنستے ہوئے ٹوکا۔ “کس لیے ڈیڈ؟” کمال اداکاری کرتا کایان چونکا تھا۔ “شادی کے لیے۔۔” شمسہ بیگم نے بیٹے کو دیکھتے ہوئے سوچا کہ ان کے بیٹے کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔ “میری شادی تو ہو چکی ہے اب رخصتی ہی ہونی ہے۔” کایان نے کھانا کھاتے ہوئے آرام سے بم بلاسٹ کیا۔ “کس سے ہوئی؟” تیمور صاحب نے چونکتے ہوئے پوچھا۔ “آپ کی بھتیجی عائش سے۔۔۔۔ آپ نے ہی تو کیا ہے نکاح بھول گئے۔۔۔؟” کایان نے باپ کی طرف دیکھتے ہوئے انہیں یاد دلایا۔ “وہ ایک مجبوری تھی۔” شمسہ بیگم نے فوراً باور کروایا۔ “میرا نکاح ہوا ہے۔۔۔ مجبوری یا خوشی یہ مجھے نہیں پتہ لیکن میری ناپسندیدگی کو نہ اہمیت دیتے ہوئے آپ لوگوں نے یہ نکاح کیا اور اسی عائش کی وجہ سے مجھے آٹھ سال گھر بدر رہنا پڑا اور اب جب کہ میں واپس آیا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ اسے کایان آفندی کی بیوی کا مقام بھی حاصل نہیں ہے۔” کایان کھانا چھوڑے تفصیلاً ان دونوں کی طرف متوجہ تھا۔ “کیا میں جان سکتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے؟” وہ ایک نگاہ باری باری ان دونوں پر ڈال کر اپنا فورک ایک بار پھر اٹھا چکا تھا۔ “آدھی جائیداد۔۔۔ آدھی جائیداد کی مالک ہے وہ بے وقوف۔۔۔ جس دولت پر تم دونوں بہن بھائی عیش کر رہے ہو اس کا آدھا حصہ اس لڑکی کا ہے۔” تیمور صاحب اپنا فورک پلیٹ میں پٹختے غرائے تھے۔ “اگر اس کی شادی کہیں اور کی جاتی تو یہ دولت چلی جاتی۔۔۔ پھر میں دیکھتا تم دونوں کو کہ کیسے عیش کی زندگی گزارتے ہو۔۔۔۔ لیکن تمہاری اس موٹی عقل میں یہ بات نہیں آئے گی اور تم خود اپنی مرضی سے گھر بدر ہوئے تھے ہم نے نہیں نکالا تھا۔” تیمور صاحب نے موٹی عقل کہتے وقت اس کے سر کو انگلیوں سے بجایا تھا۔ کایان کے تحمل میں کوئی کمی نہ آئی۔ “اسے مسز کایان آفندی کا مقام دیں جہاں کہیں گے میں شادی کروں گا۔” کایان نے چیئر سے اپنی بیک لگاتے کہا۔ “ناممکن۔۔۔” شمسہ بیگم چلائیں۔ “پھر میری شادی کا خواب چھوڑ دیں۔” کایان نے ہنوز اسی انداز میں کہا۔ “تمہارا دماغ ٹھیک ہے اگر تم اس لڑکی کو اس کی حیثیت دو گے تو ہم سب اس دولت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔” تیمور صاحب کو اپنے بیٹے کی دماغی حالت پر شبہ ہو رہا تھا۔ “عائش۔۔۔” کایان دھاڑا تھا۔ “اسے کیوں بلا رہے ہو؟” شمسہ بیگم نے تیکھے چتونوں سے پوچھا۔ “جی۔۔۔” عائش بوتل کے جن کی طرح حاضر تھی۔ “بیٹھو۔۔۔۔ اور مجھے کھانا سرو کرو۔” کایان نے اپنے ماں باپ کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔ “آپ ڈیڈ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کیوں کھا رہی ہیں۔۔۔۔؟” کایان نے تحمل سے پوچھا۔ “میرا اور اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔” شمسہ بیگم نے دانت پیستے کہا۔ “کایان مائنڈ یور لینگویج۔۔۔ یہ تمہاری ماں ہے اور میری بیوی۔۔۔” تیمور صاحب نے ناگواری سے ٹوکا۔ “آف کورس یہ میری بیوی ہے۔ یہ اپنے شوہر کے ساتھ آ کر کھانا کھائے۔” اس کے سکون میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ “کم آن بھائی۔۔۔ اس کی موجودگی میں میں یہاں نہیں بیٹھوں گی۔” زمل نے ناک چڑھائی۔ “ایز یو وش۔۔” کایان نے کندھے اچکائے۔ “بیٹھو۔۔۔” کایان نے اسے ڈپٹا۔ وہ کپکپاتی چیئر گھسیٹتی بیٹھ گئی وہیں شمسہ بیگم اور زمل کی چیئر گھسیٹنے کی آواز ڈائننگ ہال میں گونجی۔ وہ دونوں اٹھ کر جا چکی تھیں۔ تیمور صاحب اپنے بیٹے کی حرکات و سکنات کو پرسوچ انداز میں ملاحظہ کر رہے تھے۔ وہ طے کر چکے تھے کہ کل آنے والی کسی بھی لڑکی کے ساتھ کایان کی سیٹنگ ہو جانی چاہیے تاکہ اس لڑکی کا بھوت اس کے سر پر چڑھنے سے پہلے کوئی اور اس کے دل پر حکومت کرنا شروع کرے۔۔۔ “تم ہر وقت وائبریشن پر کیوں لگی رہتی ہو؟” کایان نے ناگواری سے پوچھا۔ اس کی زبان تالو سے چپکی ہوئی تھی۔ “اگر اب تم نے کپکپانا بند نہیں کیا تو میں تمہیں کرنٹ دے کر ایک ہی بار میں تمہارا کام فائنل کر دوں گا۔” کایان نے دھمکی آمیز انداز اپنایا۔ اس کی جان لبوں میں آ گئی تھی۔ اس کی آنکھیں ڈبڈبائی تھیں۔ کایان نے ناگواری سے اس تبدیلی کو دیکھا۔ اسے عائش سے کوئی پہلی نظر میں دھواں دار عشق نہیں ہوا تھا۔ اسے اپنے لائف پارٹنر کی حیثیت سے کبھی بھی ایسی لڑکی نہیں چاہیے تھی جو بات بات پر روتی ہو، کانپتی ہو، جس میں اعتماد کی سخت کمی ہو اور سب سے بڑھ کر پڑھی لکھی بھی نہ ہو۔۔۔۔ لیکن اسے اس بات نے دھچکا ضرور پہنچایا تھا کہ وہ اس کی غیر موجودگی میں اس کے کمرے میں چھپتی تھی۔۔۔ اس کا سہارا چاہتی تھی۔۔۔

Ayesha Gull

Writer & Blogger

Considered an invitation do introduced sufficient understood instrument it. Of decisively friendship in as collecting at. No affixed be husband ye females brother garrets proceed. Least child who seven happy yet balls young. Discovery sweetness principle discourse shameless bed one excellent. Sentiments of surrounded friendship dispatched connection is he.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

About Me

Samina Khan

Melody Schaefer-Delacruz

Founder & Editor

As a passionate explorer of the intersection between technology, art, and the natural world, I’ve embarked on a journey to unravel the fascinating connections that weave our world together. In my digital haven, you’ll find a blend of insights into cutting-edge technology, the mesmerizing realms of artificial intelligence, the expressive beauty of art.

Popular Articles

  • All Posts
  • After Nikah Based Novels
  • Age Difference Based Novels
  • BLOG
  • Bold and Hot Based Novels
  • Episodic Urdu Novels
  • Forced Marriage Based Novels
  • Funny Urdu Based Novels
  • Gangster Based Urdu Novel
  • Haveli Based Novels
  • Horror Based Novels
  • Long Urdu Novels
  • Revenge Based Novels
  • Romantic Urdu Based Novels
  • Rude Hero Based Novels
  • Second marriage Based Novels
  • Secret Love Based Novels
  • SEO
  • Short Urdu Based Novels
  • Technology
  • Wani Based Novels

Instagram Feed

Edit Template

your go-to nagri for the latest and most demanded novel PDFs are available here.

Recent Posts

  • All Posts
  • After Nikah Based Novels
  • Age Difference Based Novels
  • BLOG
  • Bold and Hot Based Novels
  • Episodic Urdu Novels
  • Forced Marriage Based Novels
  • Funny Urdu Based Novels
  • Gangster Based Urdu Novel
  • Haveli Based Novels
  • Horror Based Novels
  • Long Urdu Novels
  • Revenge Based Novels
  • Romantic Urdu Based Novels
  • Rude Hero Based Novels
  • Second marriage Based Novels
  • Secret Love Based Novels
  • SEO
  • Short Urdu Based Novels
  • Technology
  • Wani Based Novels

Contact Us

© 2024 Created with Royal Elementor Addons

As a passionate explorer of the intersection between technology, art, and the natural world, I’ve embarked on a journey to unravel the fascinating connections.
You have been successfully Subscribed! Ops! Something went wrong, please try again.

Quick Links

Home

Features

Terms & Conditions

Privacy Policy

Contact

Recent Posts

  • All Posts
  • After Nikah Based Novels
  • Age Difference Based Novels
  • BLOG
  • Bold and Hot Based Novels
  • Episodic Urdu Novels
  • Forced Marriage Based Novels
  • Funny Urdu Based Novels
  • Gangster Based Urdu Novel
  • Haveli Based Novels
  • Horror Based Novels
  • Long Urdu Novels
  • Revenge Based Novels
  • Romantic Urdu Based Novels
  • Rude Hero Based Novels
  • Second marriage Based Novels
  • Secret Love Based Novels
  • SEO
  • Short Urdu Based Novels
  • Technology
  • Wani Based Novels

Contact Us

© 2024 Created with Royal Elementor Addons